ایران پر نئی امریکی پابندیاں، چین کا ردِعمل سامنے آگیا

ترجمان چینی وزارت خارجہ لی جیان نے واضح کردیا کہ ایران کے ساتھ چین کا تعاون بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔ ایران پرعائد نئی امریکی پابندیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

نیوز بریفنگ میں ترجمان نے کہا ایران پرعائد نئی امریکی پابندیوں سے ایران کے ساتھ چینی تجارت میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ چین تمام صورت حال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے، اپنے حقوق اور مفادات کےتحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات  کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکا نے ایران سے منسلک کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کردیں ہیں۔ امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ایران سے منسلک 60 اداروں، افراد اور جہازوں پر پابندیاں عائد کردیں۔ تعلق جوہری، میزائل، سائبر اور تیل کے نیٹ ورکس سے ہے۔

ایران کو بعض ترسیلاتِ زر کی اجازت دینے والے عمومی لائسنس بھی معطل کردیے۔ متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، چین، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں بروکر کمپنیاں پابندیوں کی زد میں آئیں۔ روسی خفیہ بحری بیڑے کے جہازوں کے نیٹ ورک پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں۔

امریکی وزیرخزانہ نے دوٹوکہ کہا کہ چین سمیت کوئی بھی امریکی پابندیوں کی پہنچ سے باہر نہیں۔ ایران کی حمایت کرنیوالے ہر ملک کو امریکی پابندیوں کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق ہر ملک کو ایک ڈیڈلائن دی گئی ہے۔ وہ خود کارروائی نہیں کریں گے تو امریکا یکطرفہ طور پر کارروائی کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے