یمن اور سعودی عرب کے درمیان پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے: راجا ناصر عباس جعفری

اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے چیئرمین اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے علمائے کرام کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیکا ایکٹ، مذہبی آزادی، عزاداری، ایران۔پاکستان سرحد، یمن کی صورتحال اور خطے کی موجودہ سیاسی صورت حال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاکستان 25 کروڑ عوام کا ملک ہے اور جس طرح ایک چھوٹا سا گھر بھی نظام کے بغیر نہیں چل سکتا، اسی طرح ریاست کو بھی آئین اور قانون کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب اور مسالک کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے اور آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ان کے بقول پاکستان کسی ایک مسلک کا نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کا مشترکہ ملک ہے، جس کی تعمیر میں سب نے مل کر کردار ادا کیا، جبکہ اقلیتوں کو بھی برابر کے آئینی اور شہری حقوق حاصل ہیں۔

انہوں نے پیکا ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق پر قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، جبکہ اظہار رائے کی آزادی کو محدود کیا جا رہا ہے۔علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ سوویت یونین کے افغانستان آنے کے بعد پاکستان میں مسلکی نفرتوں کو فروغ دیا گیا اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف لڑایا گیا، جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عزاداری ہماری عبادت ہے اور یہ ہمارا آئینی و قانونی حق ہے، مگر محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی عزاداری پر مختلف پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی جاتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں دیگر تقریبات بلا رکاوٹ جاری رہتی ہیں، مگر نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی مجالس اور جلوسوں پر قدغنیں لگا دی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عزاداروں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، بے بنیاد مقدمات قائم کیے جاتے ہیں اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جاتا ہے، جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ چہلم حضرت امام حسین علیہ السلام کے موقع پر عزادار حسب روایت پیدل چل کر جلوسوں میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "مشی” کا مطلب پیدل چلنا ہے، اس لیے عزادار کسی دباؤ میں نہ آئیں اور چہلم کے جلوسوں میں بھرپور شرکت کریں، کیونکہ عزاداری کسی صورت نہیں رکے گی۔

قائد حزب اختلاف سینیٹ نے وفاقی اور پنجاب کے وزرائے قانون سے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے اور مذہبی آزادی کے آئینی حق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسالک اور مذاہب کے نام پر نفرتیں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے ایران۔پاکستان سرحد کی بندش کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ دو سال سے سرحد بند ہونے کے باعث ہزاروں زائرین زیارات سے محروم ہیں، حالانکہ زیارات ان کی عبادت کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے لوگوں نے ان سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ گزشتہ بارہ برس سے محاصرے کا شکار ہیں اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کو باقاعدہ خط لکھیں گے۔

بین الاقوامی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجا ناصر عباس جعفری نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قابل اعتماد نہیں ہیں۔

ان کے مطابق ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران امریکہ نے حملے کیے، جبکہ ٹرمپ ہر دوسرے روز اپنا مؤقف تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کا غرور خاک میں مل چکا ہے اور "گریٹر اسرائیل” کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے