نیب سے متعلق مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر  نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔ فیصلے کے مطابق نیب کی  تمام زیرالتوا اپیلیں آئینی عدالت کو منتقل تصور کی جائیں۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ وفاقی حکومت نے مارچ میں نیب قانون میں ترمیم کی تھی۔

فیصلے کے مطابق کچھ وکلا نے ایک کیس کا حوالہ دے کر اعتراض اٹھایا کہ نیب ترمیم کے بعد بھی سپریم کورٹ نے نیب کیس میں ضمانت دی۔  اُس کیس میں نیب نے دائرہ اختیار پر سوال نہیں اٹھایا تھا، ایسا کیوں ہوا اس کا جواب نیب ہی دے سکتا ہے۔ قانون میں واضح ہے اپیل کا فورم آئینی عدالت ہے، ایسے میں ضمانت کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس رکھنا قانون کی منشا کے خلاف ہو گا، اپیل کا فورم قانون ہی طے کرتا ہے یہ کسی سائل کی رضامندی پر منحصر نہیں۔ 

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بانی پی ٹی آئی نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔ رجسٹرار کے اعتراضات کے بعد ان کی جانب سے چیمبر اپیل بھی دائر کی گئی تھی تاہم سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ان کی اپیل سمیت تمام زیر التوا نیب اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے