اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان میں شرحِ خواندگی کا انحصار بڑی حد تک گھریلو آمدن پر ہے، جبکہ صنفی فرق اور جغرافیائی تقسیم خواندگی کے لحاظ سے پائی جانے والی خلیج کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ یہ بات گیلپ پاکستان کی جانب سے 14؍ جنوری کو جاری کیے گئے ایک نئے تجزیے میں سامنے آئی ہے۔ یہ مطالعہ ہائوس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) پر مبنی ہے جو ستمبر 2024ء سے جون 2025ء کے دوران کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، سب سے کم آمدنی والے طبقے سے سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے تک جانے سے شرحِ خواندگی میں تقریباً 38؍ فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوتا ہے۔ یہ رجحان تمام آبادیاتی گروپس میں یکساں پایا گیا، جن میں مرد، خواتین، شہری اور دیہی آبادی شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، کم ترین آمدنی والے طبقے میں تمام گروپس کی شرحِ خواندگی کم رہی۔ شہری مردوں میں یہ شرح 56؍ فیصد، دیہی مردوں میں 49؍ فیصد، شہری خواتین میں 42؍ فیصد جبکہ دیہی خواتین میں صرف 28؍ فیصد رہی۔ اس کے برعکس، سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں شرحِ خواندگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں شہری مردوں میں یہ شرح 93؍ فیصد اور دیہی مردوں میں 84؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ اگرچہ سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں خواتین کی شرحِ خواندگی میں بھی اضافہ ہوا، جہاں شہری خواتین میں یہ شرح 83؍ فیصد اور دیہی خواتین میں 65؍ فیصد رہی، تاہم اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آمدن کا عنصر اکثر دیگر عوامل پر حاوی رہتا ہے۔ قابلِ ذکر طور پر، ایک غریب شہری خاتون کی حالت ایک امیر دیہی مرد سے بھی بدتر پائی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جغرافیہ غربت کے اثرات کا ازالہ نہیں کر سکتا۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دیہی خواتین کو دوہرا نقصان درپیش ہے، کیونکہ ہر آمدنی کے درجے میں ان کی شرحِ خواندگی سب سے کم ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، محققین نے دیہی خواتین کیلئے آمدن کے حوالے سے گہرے فرق کی نشاندہی کی، جہاں سب سے کم آمدنی والے طبقے میں شرحِ خواندگی 28؍ فیصد سے بڑھ کر سب سے زیادہ آمدنی والے طبقے میں 65؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ اسے اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا ہے کہ پالیسی اقدامات اور نظام تعلیمی نتائج میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔
یہ تجزیہ گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان نے کیا، جو گیلپ انٹرنیشنل کا پاکستانی کا الحاق شدہ ادارہ ہے، اور اس میں 10؍ سال اور اس سے زائد عمر کی آبادی کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے۔ اس تحقیق گیلانی ریسرچ فائونڈیشن نے معاونت کی، جس کے سربراہ ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی ہیں، جنہوں نے 1980ء میں پاکستان میں رائے شماری کے شعبے کی بنیاد رکھی تھی۔