واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ انتظامیہ کی کینیڈین ریاست البرٹا کے علیحدگی پسندوں سے ملاقات کے بعد کینیڈا اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے لگی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے مبینہ طور پر کینیڈا کے انتہائی دائیں بازو کے علیحدگی پسند گروپ کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کی ہیں جو کینیڈا کے باقی حصوں سے الگ ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق البرٹا پراسپرٹی پروجیکٹ کے رہنماؤں سے واشنگٹن میں گزشتہ اپریل سے تین بار ملاقاتیں ہوئیں، یہ ایک انتہائی دائیں بازو کا گروپ ہے جو تیل سے مالا مال مغربی صوبہ البرٹا کو آزاد ملک بنانا چاہتا ہے۔
یہ خفیہ ملاقاتیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اس کے شمالی ہمسایہ ملک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، موجودہ کشیدگی نے علیحدگی پسندوں کو فائدہ پہنچایا ہے جو اس تناؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کینیڈا کے علیحدگی پسندگروپ کے قانونی مشیر جیف ریتھ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ "امریکا ایک آزاد اور خودمختار البرٹا کے لیے انتہائی پرجوش ہے۔” انہوں نے دعویٰ کیا کہ "ہم بہت اعلیٰ سطح کے لوگوں سے مل رہے ہیں جو ہماری ملاقاتوں کے بعد سیدھے اوول آفس جا رہے ہیں۔”
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ان ملاقاتوں میں کسی بھی گروپ سے کوئی وعدہ یا حمایت نہیں کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا "انتظامیہ کے حکام مختلف سول سوسائٹی گروپس سے ملتے رہتے ہیں۔ ایسی کوئی حمایت یا کوئی اور وعدہ نہیں کیا گیا۔”
اس معاملے پر کینیڈا میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ سیاست دانوں نے ان ملاقاتوں کو "غداری” قرار دیا ہے۔
اس رپورٹ کے جواب میں وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کینیڈین خودمختاری کا احترام کرے گی۔ انہوں نے کہا "میں ہمیشہ صدر ٹرمپ سے اس بارے میں واضح رہتا ہوں۔”
البرٹا کی وزیراعلیٰ ڈینیئل سمتھ نے بھی یہی موقف اپنایا اور کہا کہ امریکی حکام کو البرٹا کے جمہوری عمل پر بات چیت کینیڈینز اور البرٹنز تک محدود رکھنی چاہیے۔