پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ تیراہ میں جاری آپریشن کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہو رہے ہیں جبکہ گزشتہ آپریشن میں متاثرین کو چار لاکھ روپے امداد دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اب تک کسی کو کچھ نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے پرامن تھے مگر اب وہاں حالات خراب کر دیے گئے ہیں۔ شدید سردی میں لوگوں کو بے گھر کرنا غیر انسانی عمل ہے۔ حافظ نعیم نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی تیراہ کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل افریدی پر زور دیا کہ وہ اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ آپریشن عوام کی مرضی کے بغیر ہو رہا ہے۔ حکومت متاثرین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے۔
حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔ دونوں ملکوں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ایک دوسرے کی سرزمین استعمال نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کے درمیان لڑائی سے بھارت خوش ہوتا ہے جبکہ افغانستان میں پھنسے طلبہ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کشیدگی کے باعث تجارت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مقامی حکومتوں کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے کوئی سیاسی جماعت بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنے کی بات نہیں کرتی۔ مقامی حکومتوں کو توسیع دینے کے بجائے انہیں فعال بنایا جائے۔
کراچی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ 17 سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور کراچی کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ کراچی منی پاکستان ہے، اس شہر کی بات دراصل پورے پاکستان کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا تھا جسے چھین لیا گیا جبکہ مختلف سانحات پر حکمرانوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کو مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک کے بعد جماعت اسلامی دوبارہ سڑکوں پر آئے گی اور اب حکومت کے معاہدوں پر اعتبار نہیں کیا جائے گا۔