کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد جاری سرچ آپریشن کے دوران مزید 30 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک پہنچ گئی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزانائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، جہاں ایک کراکری کی دکان سے تمام لاشیں ملی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملبہ ہٹانے کا عمل روک دیا گیا ہے اور ترجیحی بنیادوں پر لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے بعد متعدد افراد نے خود کو بچانے کے لیے دکانوں میں بند کر لیا تھا، جبکہ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی آئی تھی۔
ریسکیو 1122 کے مطابق گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے متعدد انسانی اعضا بھی ملے ہیں جنہیں سول اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ آج مزید باقیات کی جانچ جاری ہے اور مزید اموات کا خدشہ بھی موجود ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جانی نقصان میں اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملبہ ہٹانے کا عمل روک کر لاشیں فوری اسپتال منتقل کی جائیں، جبکہ شناخت اور لواحقین کو سہولیات فراہم کی جائیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق آگ کی شدت کے باعث ڈی این اے شدید متاثر ہوا ہے، جس سے شناخت کا عمل مشکل ہو رہا ہے، تاہم سندھ فرانزک ڈی این اے لیب 24 گھنٹے کام کر رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کے گرے ہوئے حصے پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ مکمل سرچ آپریشن کے بعد عمارت کو منہدم کر کے ملبہ ہٹایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 11 لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 85 افراد تاحال لاپتا ہیں۔