بھارت کی ڈالر کے بجائے ایران سے تیل چینی کرنسی یوآن میں خریداری؛ رائٹرز کا دعویٰ

نئی دہلی: بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری اور اس کی ادائیگی کے طریقہ کار میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے امریکی ڈالر کے بجائے ادائیگیاں اب چینی کرنسی یوآن میں کی جا رہی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی آئل ریفائنریز نے امریکی پابندیوں کے تحت دی گئی عارضی رعایت کے دوران ایرانی تیل خریدا۔

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کے لیے بھارتی آئل ریفائنریز نے ادائیگیاں ممبئی میں قائم ICICI Bank کے ذریعے چینی یوآن میں شروع کر دی ہے۔

رائٹرز نے چار باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکا نے گزشتہ ماہ روسی اور ایرانی تیل کی خریداری کے لیے 30 روزہ عارضی رعایت دی تھی جس کا مقصد جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر طویل عرصے سے عائد امریکی پابندیوں کے باعث ادائیگی کے نظام میں مشکلات کے باعث کئی خریدار ممالک ایرانی تیل سے گریز کرتے رہے ہیں۔

تاہم اس نئی ادائیگی اسکیم کے ذریعے ان رکاوٹوں کو جزوی طور پر کم کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں بھارت کی سرکاری کمپنی انڈین آئل کارپوریشن نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر مالیت کے قریب 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل خریدا جو گزشتہ 7 سال بعد بھارت کی جانب سے ایرانی تیل کی پہلی باضابطہ خریداری قرار دی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی نجی ریفائنری ریلائنس ریفائنری کے لیے ایرانی تیل لے جانے والے چار جہازوں کو بھی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی گئی۔

رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ریفائنریز کی جانب سے ادائیگیوں کے لیے ICICI بینک استعمال کیا جا رہا ہے جو اپنی شنگھائی برانچ کے ذریعے چینی یوآن میں رقوم ایرانی فروخت کنندگان کے اکاؤنٹس میں منتقل کر رہا ہے۔تاہم ان فروخت کنندگان کی حتمی شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے