تجزیہ: آصف علی بھٹی
(چیف ایڈیٹر ورلڈ واچ الرٹ)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کو غزہ امن بورڈ میں شرکت کی دعوت پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اس کی ساکھ کا واضح اعتراف ہے۔ یہ دعوت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کو اب نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی امن کے معاملات میں بھی ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
غزہ امن میکانزم میں پاکستان کی شمولیت مسلم دنیا کی ایک مستند آواز کو اس عمل کا حصہ بناتی ہے، جس سے اس فورم کی اخلاقی حیثیت، عالمی قبولیت اور نمائندگی مزید مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے غزہ میں فوری جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد اور بین الاقوامی قوانین و اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ سیاسی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ یہی مستقل اور اصولی موقف اسے دیگر فریقوں سے ممتاز بناتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا غزہ میں کوئی براہِ راست عسکری کردار یا سیاسی بوجھ نہیں، جس کے باعث وہ نسبتاً غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان سے رابطہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن یکطرفہ فیصلوں کے بجائے جامع اور شراکتی سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا دیرینہ اور واضح موقف فلسطینی عوام، عرب ممالک اور وسیع تر مسلم دنیا کے لیے اعتماد کا باعث ہے کہ اس امن عمل میں انسانی جانوں کا تحفظ اور انسانی ہمدردی کے تقاضے نظرانداز نہیں کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے امریکہ، چین، یورپ اور مسلم دنیا کے ساتھ متوازن تعلقات قائم رکھے ہیں، جو اسے مختلف عالمی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
پاکستان کا اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں طویل تجربہ اور تنازعات کے حل میں عملی شمولیت غزہ امن بورڈ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ دعوت غزہ کے معاملے پر محض بیانات سے آگے بڑھ کر ایک منظم اور باقاعدہ سفارتی عمل کی جانب پیش رفت کا اشارہ ہے۔
غزہ امن بورڈ کے قیام کی غرض سے پہلے اہم ترین اجلاس میں وزیراعظم کے ہمراہ مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بھی متوقع طور پر شریک ہوں گے ، اس امن بورڈ میںق پاکستان کی موجودگی اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے کہ توجہ شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد اور طویل المدتی استحکام پر مرکوز رہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت پاکستان کی اس تصویر کو مزید مستحکم کرتی ہے کہ وہ جنوبی ایشیا تک محدود نہیں بلکہ عالمی امن و استحکام میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آنے والے دنوں میں اس امن بورڈ کے دائرۂ کار اور طریقۂ کار سے متعلق مزید سفارتی سرگرمیوں کی توقع ہے، تاہم یہ طے ہے کہ پاکستان کی شمولیت غزہ میں ایک قابلِ اعتماد، جامع اور پائیدار امن فریم ورک کی امید کو تقویت دیتی ہے