تہران: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل حملوں کے باوجود ایران کی میزائل صلاحیت قائم ہے۔
امریکی انٹیلیجنس اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں بیلسٹک میزائل موجود ہیں اور وہ اپنی لانچنگ صلاحیت کو بحال کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں سے میزائل لانچرز نکال کر دوبارہ استعمال کے قابل بناسکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کا توازن ایک بار پھر متاثر ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے نصف سے زائد لانچرز یا تو تباہ ہو چکے ہیں، نقصان کا شکار ہیں یا زیرِ زمین دب گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ان میں سے کئی لانچرز کو وقت کے ساتھ مرمت کر کے دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے یا زمین کھود کر نکالا جا سکتا ہے۔
اس امکان نے واشنگٹن میں پالیسی سازوں کے لیے ایک نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔امریکی حکام کے مطابق ایران کی عسکری حکمت عملی میں زیرِ زمین تنصیبات کا استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس کے باعث مکمل طور پر اس کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنا نہایت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بارہا حملوں کے باوجود ایران کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت مکمل طور پر غیر مؤثر نہیں ہو سکی۔دوسری جانب واشنگٹن میں بعض حلقے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ ایران موجودہ جنگ بندی کے وقفے کو استعمال کرتے ہوئے اپنے میزائل پروگرام کو دوبارہ منظم کر سکتا ہے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں جب جنگ بندی کو مستحکم کرنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔