واشنگٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ شروع کررہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن انتظامیہ خطے میں نہ صرف اپنی فضائی طاقت بڑھا رہی ہے بلکہ زمینی اور بحری سطح پر بھی بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی جا رہی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فضائیہ کے مزید لڑاکا اور حملہ آور طیارے پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکہ کی 82ویں ایئر بورن ڈویژن سے تقریباً 1,500 سے 2,000 فوجیوں کو بھیجنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور ممکنہ فوجی آپریشنز کے لیے پیشگی تیاری کا حصہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب بحری محاذ پر بھی امریکہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے، جہاں USS George H.W. Bush کیریئر اسٹرائیک گروپ کو خطے میں منتقل کیا جا رہا ہے، جو جدید جنگی طیاروں اور میزائل دفاعی نظام سے لیس ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ USS Boxer بھی روانہ کیا جا رہا ہے، جس پر 11ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ تعینات ہے، جو کسی بھی فوری زمینی کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔