ہیوسٹن: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک پیچیدہ صورتحال کی عکاسی کرتی ہے جس میں عسکری دباؤ، سفارتی کوششیں اور اسٹریٹجک بیانیہ شامل ہیں۔
ورلڈ واچ الرٹ کے بیورو چیف آصف علی بھٹی نے اپنے حالیہ یوٹیوب ولاگ میں اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔
حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی طرف سے ملنے والے مبینہ “تحفے” کے دعوے کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ دراصل پاکستانی پرچم بردار تیل بردار جہاز تھے جو آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے، نہ کہ تہران کی جانب سے کوئی براہِ راست رعایت۔ یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایسے معاملات کو اندرونی سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
شدید بیانات کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔ ایران نے مبینہ طور پر امریکہ کی 15 نکاتی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے پانچ نکات پر مشتمل جوابی تجویز پیش کی ہے، جو ایک طرف مزاحمت اور دوسری جانب مذاکرات کے لیے آمادگی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکام نے محتاط امید کا اظہار کیا ہے کیونکہ مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ دوسری جانب امریکہ میں داخلی سیاسی دباؤ بھی بیانیے کو متاثر کر رہا ہے، جہاں کامیابی کے دعوے اور ایران کے جوہری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔
خطے کے اہم ممالک جن میں پاکستان، قطر، ترکی اور مصر شامل ہیں، کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان خاص طور پر ایک ممکنہ ثالث کے طور پر سامنے آ رہا ہے اور دونوں ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ خوراک کی قلت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
عسکری سطح پر امریکہ نے خطے میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے، جس کے تحت بحری اثاثوں کی تعیناتی اور تقریباً ڈھائی ہزار فوجیوں کی موجودگی شامل ہے، جو ایک جانب سفارت کاری اور دوسری جانب ممکنہ تصادم کی تیاری کی نشاندہی کرتی ہے۔ ادھر ایرانی حکام کے خلاف مبینہ اسرائیلی کارروائیوں نے بھی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے اور باہمی عدم اعتماد کو مزید گہرا کیا ہے۔
معاشی اعتبار سے یہ تنازع نہایت مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق امریکہ کو روزانہ ایک سے دو ارب ڈالر تک نقصان ہو رہا ہے، جبکہ 200 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی درخواست کو کانگریس اور نیٹو اتحادیوں کی جانب سے محدود حمایت حاصل ہے۔
اگرچہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور تیل کی پیداوار میں کمی کی اطلاعات ہیں، تاہم ایران اب بھی مضبوطی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ وہ اپنے اسٹریٹجک وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال تصادم اور سفارت کاری کے درمیان ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ دونوں فریق طاقت کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن اندرونی طور پر کشیدگی کم کرنے کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ آنے والے ہفتے یہ طے کریں گے کہ یہ بحران کسی حل کی طرف بڑھتا ہے یا مزید شدت اختیار کرتا ہے۔