امریکی ہیبت ناک طیارہ بردار بحری بیڑے میں آگ لگنے کی تصدیق ہوگئی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ میں لگنے والی آگ کو تقریباً 30 گھنٹے قبل بجھا دیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق آگ جہاز کے ایک حساس حصے میں لگی جس کے باعث اندرونی نظام متاثر ہوا اور کئی اہم تکنیکی آلات کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا، لیکن ابتدائی اندازوں کے مطابق جہاز کی مکمل مرمت میں کم از کم ایک ہفتہ درکار ہوگا، جبکہ بعض غیر سرکاری ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ نقصان اس سے زیادہ ہو سکتا ہے اور مرمت کا عمل مزید طویل ہو سکتا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ریاستہائے متحدہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بحری موجودگی کو مضبوط بنا رہا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایک جدید ترین طیارہ بردار جہاز کا عارضی طور پر ناکارہ ہونا امریکی فوجی حکمت عملی کے لیے ایک دھچکا ہے، کیونکہ ایسے جہاز نہ صرف طاقت کی علامت ہوتے ہیں بلکہ خطے میں توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر اسے تکنیکی خرابی یا اندرونی نظام کی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی بیرونی مداخلت یا تخریب کاری کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا، جس کے باعث اس واقعے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔

امریکی بحریہ نے واقعے کے بعد اپنے دیگر بحری اثاثوں کی سیکیورٹی اور تکنیکی جانچ سخت کر دی ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات سے بچا جا سکے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ امریکی بحریہ کا سب سے جدید اور مہنگا طیارہ بردار جہاز ہے جس میں جدید ریڈار سسٹمز، الیکٹرو میگنیٹک کیٹاپلٹ ٹیکنالوجی اور جدید دفاعی نظام نصب ہیں، اس لیے اس میں پیش آنے والا کوئی بھی حادثہ محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک تشویش بھی بن جاتا ہے۔

مزید برآں، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کو بیک وقت کئی علاقائی اور عالمی چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال۔ ایسے حالات میں ایک اہم جنگی اثاثے کا وقتی طور پر غیر فعال ہو جانا امریکی پوزیشن کو متاثر کر سکتا ہے۔

اگرچہ امریکی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جہاز جلد دوبارہ فعال ہو جائے گا، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتی اور ایک معمولی خرابی بھی بڑے اسٹریٹجک اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے