ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے محفوظ قومی انٹرنیٹ فائر وال قائم کر لی

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بدامنی اور تشدد کو ہوا دینے کی مبینہ غیر ملکی کوششوں کے تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ نے “قومی انٹرنیٹ کے ذریعے قابلِ رسائی ضروری ویب سائٹس” کی ایک وائٹ لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد حساس حالات میں معلوماتی خودمختاری کو یقینی بنانا اور بیرونی سائبر و اطلاعاتی مداخلت کو ناکام بنانا بتایا جا رہا ہے۔

جاری کردہ فہرست میں میڈیا ادارے شامل ہیں جن میں سرکاری ذرائع ابلاغ IRIB اور IRNA کے ساتھ نیم سرکاری ادارے فارس، تسنیم اور خبرفوری، جبکہ نسبتاً آزاد اور معتدل خبر رساں ادارہ ISNA بھی شامل ہے۔ نقشہ سازی اور نیویگیشن کے لیے مقامی پلیٹ فارمز Neshan.org اور Balad.ir کو ترجیح دی گئی ہے، جو گوگل میپس کے متبادل کے طور پر تیار کیے گئے ہیں اور ایک کروڑ سے زائد صارفین استعمال کر رہے ہیں۔

اسی طرح زاریبین، گردو اور شادبین جیسے مقامی سرچ انجنز، ایگریگیٹرز اور ویب ڈائریکٹریز کو بھی وائٹ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔ زاریبین اور گردو اسمارٹ اور میٹا سرچ کے ساتھ صارفین کی پرائیویسی کے فیچرز فراہم کرتے ہیں، جبکہ شادبین خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے تیار کیا گیا پلیٹ فارم ہے۔

سوشل میڈیا اور کمیونیکیشن کے شعبے میں روبیکا کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، جس کے صارفین کی تعداد 5 کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے اور یہ میسجنگ، انسٹاگرام اور نیٹ فلکس طرز کی سہولیات یکجا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اییتا، جو ٹیلیگرام کا کلاؤڈ بیسڈ متبادل ہے اور تقریباً 4 کروڑ صارفین رکھتا ہے، اور سوروش پلس، جو ویڈیو کال اور نیوز پلیٹ فارم ہے اور 4 کروڑ 20 لاکھ سے زائد صارفین استعمال کر رہے ہیں، بھی شامل ہیں۔ آن لائن بینکنگ ایپ “بالے” کو بھی وائٹ لسٹ کیا گیا ہے، جس کے صارفین کی تعداد تقریباً 1 کروڑ 65 لاکھ ہے۔

ایران کو دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جہاں انٹرنیٹ کا استعمال انتہائی وسیع اور ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی اکثریت آن لائن ہے اور 90 فیصد سے زیادہ افراد وی پی این اور دیگر اینٹی سنسرشپ ٹولز سے واقف ہیں۔ ریاست نے ماضی میں کئی مواقع پر عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پابندیوں میں نرمی کی، جن میں 2024 میں واٹس ایپ اور گوگل پلے کی بحالی، 2025 کے اواخر میں تعلیمی مقاصد کے لیے یوٹیوب کی اجازت، اور 2025 کے وسط میں انسٹاگرام کی عارضی بحالی شامل ہے۔

تاہم ایرانی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق جب بھی ایسی نرمی کی گئی، امریکہ اور اسرائیل نے عالمی بگ ٹیک کمپنیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف اطلاعاتی اور سائبر کارروائیوں میں اضافہ کیا۔ اکتوبر 2025 میں اسرائیلی اخبار ہاریتز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسرائیل کی مالی معاونت سے فارسی زبان میں ایک منظم مہم چلائی گئی، جس میں ڈیپ فیک ویڈیوز، سوشل میڈیا بوٹس اور دیگر ڈیجیٹل حربوں کے ذریعے رضا پہلوی کو فروغ دینے اور ایرانی ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

ادھر امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم ایران کے خلاف روایتی فوجی حملوں کے ساتھ ساتھ “نان کائنیٹک” اقدامات، جیسے سائبر حملے اور اطلاعاتی جنگ، پر بھی غور کر رہی ہے۔ ان حالات میں ایرانی موقف یہ ہے کہ جب مخالف طاقتیں کھلے عام نقصان پہنچانے کے منصوبوں کا اعلان کریں تو دفاعی اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں، اور قومی انٹرنیٹ فائر وال اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے