نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں امن کے خلاف کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ یمن اور پورے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ اور اوچا کے ڈائریکٹر رامیش راجاسنگھم کو جامع بریفنگز پر شکریہ ادا کیا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع، حالیہ پیش رفت اور تشدد کے دوبارہ ابھرنے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل سفارتی اور علاقائی کوششوں کے باوجود صورتحال نازک ہے اور اب تک حاصل ہونے والی محدود کامیابیوں کے ضائع ہونے کا خطرہ موجود ہے۔ ایسے حساس مرحلے پر ضبط و تحمل، مکالمے کی بحالی اور کشیدگی میں کمی کے لیے مضبوط سیاسی عزم ناگزیر ہے تاکہ یمن کو دوبارہ امن اور مفاہمت کے راستے پر لایا جا سکے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی عناصر ملک میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے اقدامات کی مخالفت کرتا ہے جو تقسیم کو بڑھائیں، تشدد میں اضافہ کریں اور امن عمل کو نقصان پہنچائیں، کیونکہ اس کے منفی اثرات براہ راست یمنی عوام اور پورے خطے پر پڑتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک ایسے سیاسی عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے جو یمنی ملکیت اور یمنی قیادت میں ہو اور جو یمن کے اداروں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سیاسی فریم ورک کے احترام پر مبنی ہو۔ پاکستان نے خصوصی ایلچی کی جانب سے جامع، شمولیتی اور ملک گیر سیاسی عمل کی اپیل کی بھی حمایت کی اور تمام یمنی فریقین اور علاقائی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ تعمیری انداز میں ایک دیرپا سیاسی تصفیے کے لیے کردار ادا کریں جو تمام یمنی عوام کی امنگوں کی عکاسی کرے۔
پاکستانی مندوب نے علاقائی سطح پر مکالمے اور مفاہمت کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سہولت کاری میں پریزیڈنشل لیڈرشپ کونسل کی جانب سے ریاض میں جامع مذاکرات کی اپیل ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے تمام یمنی فریقین پر زور دیا کہ وہ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوں تاکہ سیاسی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
سلامتی کونسل میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے عملے، سفارتی اہلکاروں کی من مانی حراست اور اقوام متحدہ کے دفاتر اور اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور ان کے باعث لاکھوں ضرورت مند یمنی عوام تک جان بچانے والی امداد کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان نے تمام زیرِ حراست افراد کی فوری اور بلا شرط رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
پاکستانی سفیر نے یمن میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد فوری انسانی امداد کے محتاج ہیں، بنیادی خدمات زوال پذیر ہیں اور غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت بدستور سنگین سطح پر موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے بلا رکاوٹ انسانی رسائی، مستقل امداد اور مناسب مالی وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے موجود مالی خلا کو فوری طور پر پُر کیا جانا چاہیے۔
آخر میں سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو یمن میں امن و استحکام کی جانب قابلِ اعتماد راستے کی حمایت کے لیے متحد اور ہم آہنگ کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان نے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات یمنی عوام کی تکالیف کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے یمن کی حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا بھی اعادہ کیا۔