مسقط (مانیٹرنگ ڈیسک) خلیجی ملک بحرین کی سرکاری تیل کمپنی بیپکو انرجیز نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی تیل کی ترسیل پر فورس میجر نافذ کر دیا ہے، کیونکہ ایران کے حملے میں ملک کی واحد آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی حملے کے بعد بحرین کی مرکزی آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کمپنی کو غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر اپنی تیل کی سپلائی کے معاہدوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔
فورس میجر ایک قانونی اقدام ہوتا ہے جس کے تحت غیر معمولی حالات میں کمپنی کو اپنے معاہدوں کی ذمہ داریوں سے عارضی استثنا حاصل ہو جاتا ہے۔
حکام کے مطابق حملے کے بعد ریفائنری کے ایک حصے میں آگ لگی جسے بعد میں قابو میں کر لیا گیا، تاہم واقعے کے باعث توانائی کے شعبے میں خلل پیدا ہوا اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔
یہ ریفائنری بحرین کی توانائی معیشت کا سب سے اہم مرکز سمجھی جاتی ہے اور ملک کی تیل صاف کرنے کی بنیادی صلاحیت اسی تنصیب پر منحصر ہے۔
اسی وجہ سے اس حملے نے خلیجی خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
خلیج میں جاری کشیدگی اور توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جبکہ خطے میں تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔