نیویارک: نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ اجلاس کا مقصد خطے میں حالیہ بحران اور امریکی–اسرائیلی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا ہے، جس میں ایرانی شہریوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ دنیا ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے۔ گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت دی گئی ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ گوتریس نے مزید کہا کہ اطلاعات کے مطابق ایران میں کم از کم 20 شہری نشانہ بنے، جو نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے بھی صریحا خلاف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جائے اور امن صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی قائم رہ سکتا ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
اجلاس کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس پر گوتریس نے محتاط مؤقف اپنایا اور کہا کہ خامنہ ای کے بارے میں اس وقت کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔
فرانس کے مندوب نے بھی اپنے خطاب میں ایران پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ خطے کو امن کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے کو ہموار کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے۔
اجلاس میں موجود دیگر ممالک کے مندوبین نے بھی خطے میں جاری تشدد کی شدت پر تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ تمام فریق عالمی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کا احترام کریں تاکہ مزید ہلاکتوں اور بحران سے بچا جا سکے۔