تہران: ایران نے خلیجی ممالک میں واقع 14 امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے دوران ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکڑوں امریکی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ حملے متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر اور سعودی عرب میں امریکی تنصیبات پر کیے گئے۔ ایرانی اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے اور متعلقہ ممالک نے اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کویت کی وزارتِ دفاع کے مطابق ایران نے علی السلیم ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تین امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ زخمی اہلکاروں کی حالت اب مستحکم ہے اور ایئرپورٹ کے ایک حصے کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم اس سے فوجی آپریشنز یا جنگی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایران کے داغے گئے میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم میزائلوں کے ملبے گرنے سے ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا۔
سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے ریاض اور ملک کے مشرقی علاقے کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ سعودی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا اور کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
قطر نے بھی ایرانی حملوں کی شدید مذمت کی اور اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی، جس کے باعث حمد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے متعدد پروازیں معطل ہو گئیں۔
بحرین میں بھی ایرانی میزائل حملوں کے بعد سائرن بجا کر شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی۔ ایران نے بحرین میں امریکا کے ففتھ فلیٹ کو نشانہ بنایا، تاہم کسی مالی یا جانی نقصان کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔
اردن اور شام نے بھی ایرانی ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا اور دونوں ممالک نے ایران کو خبردار کیا کہ ایسے قومی سلامتی کے منافی اقدامات پر سخت جواب دیا جائے گا۔
یہ حملے خلیج میں خطے کی کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے ہیں اور خطے کے ممالک میں حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔