اختتام اب آپ کے ہاتھ میں نہیں، ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا: ایران کا امریکا و اسرائیل کو پیغام

تہران: ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کارروائی کا جواب انتہائی سخت انداز میں دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور حملوں کا مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

ایرانی اور غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان، تبریز، قم اور کرج میں بھی اہداف کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے بعد مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور سیکیورٹی اداروں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور متاثرہ مقامات کی نگرانی جاری ہے۔

تہران کے مضافاتی علاقوں میں میزائل حملوں کے بعد فضا میں دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض مقامات پر زور دار دھماکوں کے بعد آگ اور دھواں بلند ہوتا رہا، تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ امدادی اور سیکیورٹی ٹیمیں ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگانے میں مصروف ہیں۔

اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایران کی سرکاری عمارتوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب ایرانی عہدیداروں نے امریکی و اسرائیلی حملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے اور اس کا ردعمل نہایت سخت ہوگا۔ ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ نے خبردار کیا کہ ان حملوں کا انجام اب مخالفین کے اختیار میں نہیں رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے