سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، ایمل ولی خان

پشاور (نمائندہ خصوصی) پاک–افغان سرحد پر جاری کشیدگی کے تناظر میں ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے قومی سلامتی، امن اور عوامی مفاد پر زور دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے جواب میں پاک افواج کی جانب سے افغانستان میں واقع دہشت گردی کے ٹھکانوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اس پیدا شدہ صورتحال میں پارٹی سرحدوں پر ڈٹے افواجِ پاکستان کے غازیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وطن کے دفاع میں جان نچھاور کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے اعلامیے کے مطابق رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی افغانستان سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں، جن کے نتیجے میں فوجی جوانوں اور شہریوں کی شہادتیں ہوئیں۔

پارٹی نے واضح کیا کہ وطنِ عزیز کو دہشت گردی سے پاک کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ بیان کے اختتام پر دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ملک اور سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی حفاظت فرمائے۔

دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی نے کشیدہ صورتحال پر مختلف زاویے سے ردعمل دیا ہے۔ پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے گزارش کریں گے کہ جو بھی پالیسیاں ترتیب دی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے بلکہ وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی کے خواہاں ہیں۔

ایمل ولی خان نے مذہبی، ثقافتی اور قومی شناخت کے تناظر میں بھی امن کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر ہم پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھنا ہوگا، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔

ان کے مطابق اگر کوئی خود کو افغان سمجھتا ہے تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر پاکستانی ہے تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہیں ہوئی۔ اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ جو کر سکتے ہیں، کر رہے ہیں، اور اگر اس سے بڑھ کر کچھ ممکن ہوتا تو ضرور کرتے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ہوش، صبر اور شعور کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایک جانب جہاں بعض جماعتیں سکیورٹی فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان کر رہی ہیں، وہیں دیگر حلقے مذاکرات، عوامی مشاورت اور امن کو ترجیح دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔

پاک–افغان سرحد پر کشیدگی کے اس نازک مرحلے پر سیاسی بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک کے اندر قومی سلامتی اور امن کے سوال پر مختلف سیاسی بیانیے موجود ہیں، جبکہ زمینی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے