آپریشن غضب الحق: 133 افغان طالبان اہلکار ہلاک، طالبان رجیم کا اسلحہ ڈپو تباہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک–افغان سرحد پر کشیدگی رات بھر شدید ہوتی گئی جب سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان ایئر فورس کے طیاروں نے جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک بڑے اسلحہ ڈپو کو تباہ کر دیا۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد کی گئی۔

سرکاری عہدیدار نے جمعہ کے روز بتایا کہ پاک–افغان سرحد پر جوابی کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 133 اہلکار ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں “آپریشن غضب الحق” کے تحت کی جا رہی ہیں، جس کا آغاز سرحد پار حملوں کے بعد کیا گیا۔

وزیراعظم کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی نے رات 3:45 بجے تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے تصدیق کی کہ افغانستان میں شدت پسند ٹھکانوں کے خلاف پاکستانی جوابی حملے جاری ہیں۔

ان کے مطابق اب تک 27 طالبان چوکیاں تباہ اور 9 پر قبضہ کر لیا گیا ہے، جس سے دشمن کی پوزیشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

بیان کے مطابق کابل، پکتیا اور قندھار میں موجود عسکری اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز، دو اسلحہ ڈپو اور ایک لاجسٹک بیس کو تباہ کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ 80 سے زائد ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی ناکارہ بنا دی گئیں۔

مشرف زیدی نے دعویٰ کیا کہ کسی پاکستانی چوکی پر قبضہ نہیں ہوا اور نہ ہی کسی پاکستانی فوجی کو گرفتار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف نقصانات سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا حصہ ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے پہلے سرحدی کشیدگی کا آغاز کیا اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر “جھوٹا اور بے بنیاد پراپیگنڈا” پھیلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج پیشہ ورانہ انداز میں مؤثر جواب دے رہی ہیں اور دشمن کے عزائم ناکام بنائے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق جھڑپوں میں 36 افغان طالبان اہلکار مارے گئے جبکہ پاکستانی جانب سے 2 جوان شہید اور 3 زخمی ہوئے۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکام کے ساتھ شدت پسند سرگرمیوں کے شواہد شیئر کیے تھے مگر کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے دوحہ معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق خوارلاچی ٹرمینل اور مہمند سیکٹر میں بھی طالبان کی متعدد پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کچھ مقامات پر جنگجو دباؤ کے باعث پسپا ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے حملے کی کوششیں کی گئیں جنہیں فوری کارروائی کرتے ہوئے مار گرایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھاتا رہے گا۔

کابل میں موجود طالبان حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور مزید پیش رفت متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے