یورپی ممالک کا غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

ویب ڈیسک: یورپی ممالک نے غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو کھل کر سراہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اٹلی، اسپین اور یونان کے وزرائے داخلہ کے ساتھ روم میں اہم ملاقات کی، جس میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور اس کے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ چاروں وزرا نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے منعقدہ چار ملکی کانفرنس میں شرکت کی۔

ملاقات کے دوران اٹلی، اسپین اور یونان نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور بتایا کہ غیر قانونی امیگریشن میں 47 فیصد کمی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے لیگل پاتھ وے کے ذریعے غیر قانونی امیگریشن روکنے کی تجویز پر تینوں یورپی ممالک نے اتفاق کیا۔

چاروں ممالک کے درمیان غیر قانونی امیگریشن کو ہر سطح پر روکنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر اتفاق ہوا، جبکہ تینوں یورپی ممالک نے پاکستان کی استعداد کار بڑھانے کے لیے یورپی یونین کے ذریعے معاونت کا بھی فیصلہ کیا۔ ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک بڑھایا جائے اور غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کے خلاف مشترکہ پالیسی فریم ورک بنایا جائے۔

وزرا نے فیصلہ کیا کہ سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے واپس پاکستان لایا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ اس کے علاوہ، چاروں رہنماؤں نے مشترکہ اور فوری ردعمل کے نظام کو مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ آئندہ اجلاس رواں برس پاکستان میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ غیر قانونی امیگریشن میں ملوث مافیا کو قانون کی گرفت میں لایا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ غیر قانونی امیگریشن سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور اس چیلنج کا خاتمہ صرف مشترکہ میکانزم سے ممکن ہے۔

اطالوی وزیر داخلہ میٹیو پینٹے ڈوسی نے کہا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستانی اداروں نے بہترین اقدامات کیے ہیں، جبکہ اسپین کے وزیر داخلہ فرنینڈو گرینڈے مارلاسکا نے کہا کہ پاکستان کی قیادت میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے اقدامات مثالی اور قابل تحسین ہیں۔ یونان کے وزیر مائیگریشن ایتھاناسیس پلیورس نے بھی پاکستانی اقدامات کو سراہا۔

تینوں یورپی وزرا نے وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا اور چاروں وزرا نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور کوآرڈینیشن بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر پاکستانی سفیر علی جاوید، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے