تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پارلیمنٹ کنیسٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل “شدت پسند اسلام کے خلاف تہذیب کی پہلی صف میں کھڑا ہے” اور وہ عالمی سطح پر انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کو اپنی قومی سلامتی اور عالمی تہذیب کے دفاع کے تناظر میں اہم سمجھتا ہے۔
یہ خطاب اس وقت کیا گیا جب بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی ایوان میں موجود تھے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک تعلقات کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ شدت پسند اسلام کا بنیادی مرکز مشرقِ وسطیٰ ہے، تاہم اس انتہاپسندی کا اثر صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ اس کا لاوا ہر براعظم اور ہر ملک تک پھیل رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل طویل عرصے سے دہشت گردی اور انتہاپسند گروہوں کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے اسے اس خطرے کی نوعیت اور شدت کا بخوبی اندازہ ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کا ملک عالمی برادری کے ساتھ مل کر شدت پسندی کے خلاف تعاون جاری رکھے گا اور اسرائیل اپنی دفاعی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف اپنے شہریوں کا تحفظ کرے گا بلکہ ان ممالک کے ساتھ بھی شراکت داری مضبوط کرے گا جو انتہاپسندی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر نیتن یاہو نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انتہاپسندی کے خلاف متحد ہو کر کام کرے اور ایسے نظریات کا مقابلہ کرے جو عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔