ایران نے ہمہ گیر، کثیرالجہتی اور مکمل جنگ کی تیاری کرلی، ایرانی سکیورٹی عہدیدار

تہران/اسلام آباد: (رضی طاہر) ایران کے ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے ورلڈ واچ الرٹ کو بتایا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایران نے ہمہ گیر، کثیرالجہتی اور مکمل جنگ کی تیاری کرلی ہے۔ باخبر سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ایران نے دشمن کی کسی بھی جارحیت، قتل یا ٹارگٹ کلنگ کا جواب دینے کے لیے بغیر کسی حد یا پابندی کے کارروائی کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

عہدیدار کے مطابق ایرانی مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور جارحیت کرنے والوں اور خطے میں ان کے حامیوں کے مفادات اور اہداف کو اپنی دسترس میں آنے کی صورت میں پوری قوت سے نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف واضح ہے کہ کسی بھی نئی دشمنانہ کارروائی کا جواب محدود یا پابندیوں کا پابند نہیں ہوگا۔ ایران کے فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ دوبارہ فوجی جارحیت کی صورت میں حملہ آوروں اور خطے میں ان کے حامیوں کے مفادات اور اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کے نقطۂ نظر سے امریکہ، اسرائیلی حکومت کے بغیر ایران پر حملہ نہیں کرے گا اور اسرائیلی حکومت بھی امریکہ کے بغیر ایسا کوئی حملہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں دونوں فریقوں کے الگ الگ کارروائی کرنے کے تصور کو ایک ’’تلخ مذاق‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی جنگی مشینری ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔

عہدیدار کے مطابق امریکی حکام اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایران پر حملے کی واضح دھمکیوں نے ایران کو ضروری دفاعی اقدامات کرنے کے لیے قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل دونوں آئندہ چند ہفتوں میں انتخابات کے مرحلے میں داخل ہونے والے ہیں۔

جوہری مسئلہ محض بہانہ، امریکہ ایران کے اسلامی نظام اور مزاحمت کا مخالف ہے: ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی سکیورٹی حکام اور فوجی کمانڈرز بارہا خبردار کرچکے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں خطے میں امریکی مفادات کو مزید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (SNSC) کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جانے تک امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس عمل کا آغاز ایران کی تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد سے ہونا چاہیے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ مستقل جنگ بندی کا انحصار تہران کی جانب سے پیش کردہ سات شرائط پر واشنگٹن کے عمل درآمد پر ہے۔

منگل کے روز تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران قالیباف نے کہا کہ امریکہ نے غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ کے ذریعے خود کو ایک دلدل میں پھنسا لیا ہے، اور اب اس سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شرائط

رپورٹ کے مطابق جون میں ایرانی اور امریکی صدور کے دستخطوں سے طے پانے والی 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت واشنگٹن کو تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے اور ایران کے خلاف اپنی ناکہ بندی اور پابندیاں اٹھانے کا پابند قرار دیا گیا ہے۔

اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز کو بتدریج دوبارہ کھولنے پر رضامند ہوا تھا۔

ایران نے مارچ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جارحیت کے ابتدائی دنوں میں خلیج فارس کی اس اہم تزویراتی گزرگاہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جس کی صورتحال خطے کی سلامتی اور عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے