ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری توانائی معاہدہ کانگریس کو بھیج دیا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی امریکی انتظامیہ کے عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب سعودی عرب ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو اور اسرائیل کو تسلیم کرے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔