تہران: ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز سے متعلق 30 روزہ مدت مکمل ہونے کا انتظار نہیں کیا، امریکا جب تک وعدوں کی پاسداری نہیں کرے گا،ایران بھی معاہدے پر عملدرآمد نہیں کریگا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ایم او یو میں یہ درج ہےآبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے انتظامات ایران کرے گا، آبنائے ہرمز میں حالیہ صورتحال کی براہِ راست ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہا، امریکا نے معاہدے میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا، کوئی شک نہیں اسلام آباد میمورنڈم ختم ہوگیا، امریکا نے اسلام آباد میمورنڈم کی کھلی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے عمان پر دباؤ نے امن کوششوں میں رکاوٹ ڈالی، امریکا نے اسلام آباد میمورنڈم کی کھلی خلاف ورزی کی، امریکا کے خلاف کارروائیاں حق دفاع کے تحت کیں۔ آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ مشترکہ میکانزم بنارہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تعزیتی تقریبات میں شرکت کرنیوالوں کو سلام پیش کرتے ہیں، شہید رہبرِ انقلاب کے خون کا بدلہ لینا پوری ایرانی قوم کا مشترکہ مطالبہ ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، کشیدگی کو روکنے کے لیے پاکستان، عمان اور قطر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
قبل ازیں ایک بیان میں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی اڈوں پر حملے حق دفاع کے تحت کئے گئے۔ امریکا کو اڈے دینے والے ممالک کو جواب دینا چاہیے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کو دفاع پر مورد الزام ٹھہرانا سراسر غلط ہے۔ امریکا کے حالیہ حملوں نے چند ماہ کی تمام سفارتی کوششوں کو بے سود بنا دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ اقوام متحدہ مسلسل ایران کے موقف کو نظر انداز کررہا ہے۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اصل ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اقوام متحدہ کو خلیج فارس کا درست نام استعمال کرنا چاہیے۔