پاکستان کی ثالثی میں امریکہ-ایران ممکنہ معاہدہ، یورینیم افزودگی پر بدستور ڈیڈ لاک

اسلام آباد: پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش میں ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

ورلڈ واچ الرٹ کے ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے امریکہ کو یہ باور کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ ایران 20 سال تک یورینیم افزودگی روکنے کی شرط کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب پاکستان ایران کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ محدود مدت، یعنی 3 یا 5 سال کے لیے یورینیم افزودگی معطل کر دے تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہو سکے۔

تاہم ایرانی حکام نے تاحال اس تجویز پر کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا ہے۔ذرائع کے مطابق جنگ سے قبل ایران اس بات پر آمادہ تھا کہ وہ یورینیم افزودگی کو کم ترین سطح تک محدود کر دے، اور اس حوالے سے ایک معاہدہ طے پانے کے قریب تھا، لیکن اس مرحلے پر امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ کردیا گیا۔

اب ایک بار پھر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امریکہ کو اس بات پر قائل کیا جا سکتا ہے کہ ایران افزودگی کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے کم ترین سطح تک لے آئے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔

علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے ایران نے واضح کر دیا ہے کہ سٹریٹ آف ہرمز میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔اسی دوران لبنان کے محاذ پر بھی پیش رفت متوقع ہے، جہاں جنگ بندی کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان ایک ممکنہ معاہدہ ہوسکتا ہے، جس کے تحت لبنانی مزاحمتی گروپوں سے اسلحہ ضبط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تاہم مبصرین کے مطابق لبنان کی کمزور حکومت اور عوامی حمایت کی کمی کے باعث اس معاہدے پر عملی درآمد انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے، البتہ اسرائیل کے لیے یہ ایک سفارتی فیس سیونگ ثابت ہو سکتا ہے۔

مجموعی طور پر خطے میں جاری سفارتی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اگرچہ مذاکرات کا عمل پیچیدہ ہے، لیکن پاکستان کسی نہ کسی مفاہمت کی طرف بڑھنے کیلئے سفارتی کوشش کررہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے