امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو اسلحہ فروخت سے روکنے والی قراردادیں ناکام

واشنگٹن: امریکی سینیٹ نے اسرائیل کو ہونے والی تقریباً 450 ملین ڈالر مالیت کی اسلحہ فروخت روکنے سے متعلق 2 اہم قراردادوں کو مسترد کر دیا، جس کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون بدستور برقرار رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق پہلی قرارداد میں 295 ملین ڈالر مالیت کے کیٹرپلر کے بلڈوزرز کی فروخت کو روکنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم اسے 59 کے مقابلے میں 40 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔

دوسری قرارداد 151.8 ملین ڈالر مالیت کے 12,000 بی ایل یو BLU-110 بموں کی فروخت روکنے سے متعلق تھی، جسے بھی 63 کے مقابلے میں 36 ووٹوں سے ناکام بنا دیا گیا۔

یہ دونوں قراردادیں امریکی قانون سازوں کے ایک حلقے کی جانب سے پیش کی گئی تھیں، جو اسرائیل کو جاری فوجی امداد اور اسلحہ کی فراہمی پر سوالات اٹھا رہے تھے، خاص طور پر خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی حقوق کی صورتحال کے تناظر میں۔

تاہم سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی سیاسی قیادت کی اکثریت اب بھی اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹیجک اور دفاعی تعلقات کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے، اور اسلحہ کی فراہمی کو خطے میں طاقت کے توازن کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے