فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل

تہران: پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی بات چیت آج دوبارہ ہوگی۔

ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق بریک تھرو کا امکان ہے، الجزیرہ ٹی وی کے مطابق پاکستانی وفد ایران حکام سے ایٹمی پروگرام پر بات کر رہا ہے، فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کا وفد ایران میں موجود ہے۔

پاکستان نے خطے میں امن کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب اور فیلڈ مارشل تہران میں موجود ہیں، پاکستان کا اعلیٰ سطح وفد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں گزشتہ رات تہران پہنچا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایئرپورٹ پر گرم جوش استقبال کیا، اعلیٰ سطح پاکستانی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شامل ہیں، آئی ایس پی آر کا کہنا ہے فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔

فریقین کو پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں متوقع ہے، ایرانی وزیر خارجہ کہتے ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایران میں خوش آمدید کہنے پر خوشی ہوئی، پاکستان کی شان دار میزبانی گہرے اور عظیم دو طرفہ تعلقات کی عکاسی ہے، خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے ہمارا عزم مضبوط اور مشترکہ ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ پاکستانی وفد کا دورہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ کا تسلسل ہے، پاکستان تنہا ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات کے بعد سے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایران اور امریکا میں پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اب مذاکرات مکمل جنگ بندی کے لیےہوں گے۔

انھوں نے کہا مذاکرات میں ایران سے پابندیاں ہٹانے پر بھی بات ہوگی، یورنیم افزودگی کی سطح پر بات کرنے کو تیار ہیں، ایران ایٹمی ہتھیار بنانے میں دل چسپی نہیں رکھتا، ایران آبنائے ہرمز کا پاسبان اور نگہبان ہے، خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت قبول نہیں، جنگ کے بعد پڑوسی ملکوں کی مدد سے آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنائیں گے، اور ایران لبنان کی حمایت سے دست بردار نہیں ہوگا۔

ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے، مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، پاکستانی مذاکرات میں غیر معمولی ثالث ثابت ہوئے، صدر ٹرمپ مذاکرات میں پاکستان کا کردار جاری دیکھنا چاہتے ہیں اور یہی ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا ہم جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے