ایک اہم سفارتی پیش رفت میں، پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان حساس مذاکرات میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔
حالیہ مذاکراتی دور، جو مبینہ طور پر اکیس گھنٹوں سے زائد جاری رہا، دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی میں ممکنہ کمی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔مذاکرات کے دوران دونوں فریقین نے جامع تجاویز پیش کیں۔
ایران کی جانب سے دس اہم نکات پیش کیے گئے، جبکہ امریکہ نے پندرہ نکاتی ایجنڈا سامنے رکھا۔ اہم موضوعات میں ایران کا جوہری پروگرام سرفہرست رہا، جہاں واشنگٹن نے تہران پر زور دیا کہ وہ اپنی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرے یا مکمل طور پر ختم کرے۔
ایک اور اہم معاملہ آبنائے ہرمز تک بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانا تھا، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ ایران نے ماضی کے تنازعات میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضے کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ عرب ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات اس کا خودمختار فیصلہ ہیں۔
ایک متنازع معاملہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کے حوالے سے سامنے آیا۔ ایران نے تجویز دی کہ وہ اپنی حدود میں آنے والے تیل بردار جہازوں اور بڑے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم، امریکہ نے اس ممکنہ آمدنی میں حصہ مانگا، جسے تہران نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس معاملے پر مکمل اختیار اپنا حق قرار دیا۔
ان مذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کا کردار نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ممکنہ کشیدگی کو کھلی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مدد دی۔
اسلام آباد نے ایک نازک وقت میں دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لا کر اہم سفارتی کامیابی حاصل کی۔پاکستانی حکومت اب اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے متحرک ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم جلد ہی سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جہاں سعودی ولی عہد سے ملاقات میں ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
عارضی جنگ بندی کے اختتام کے قریب آتے ہی مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ اگرچہ پاکستان بدستور ممکنہ میزبان ہے، تاہم جنیوا اور سعودی عرب بھی متبادل مقامات کے طور پر زیر غور ہیں۔
ابتدائی مذاکرات میں دونوں فریقین کی سنجیدگی اور ایک دوسرے کو سننے کی آمادگی کو اعتماد سازی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران نے مثبت رویہ اور پیش رفت کی خواہش ظاہر کی ہے، جس سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، ٹرمپ کو اندرون ملک بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، جن میں مہنگائی اور سیاسی تنقید شامل ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں، اور اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک موجودہ سفارتی پیش رفت سے مطمئن ہیں۔
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو کئی اہم نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ایران کے منجمد مالی اثاثے بحال کیے جا سکتے ہیں اور اس پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم یا ختم کی جا سکتی ہیں۔ ایران نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ عرب ممالک پر حملے کا ارادہ نہیں رکھتا، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید ہے۔
مزید یہ کہ مستقبل میں اعلیٰ سطحی مذاکرات میں ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی براہ راست شرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔پاکستان کو اس سفارتی کردار سے نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات توانائی کے شعبے، خصوصاً تیل اور گیس میں تعاون کے نئے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، پاکستان اپنی سفارتی کامیابی کو بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ سے مالی امداد یا قرضوں میں ریلیف حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ اس اہم تنازع میں کامیاب ثالثی پاکستان کو خطے میں ایک مؤثر سفارتی قوت کے طور پر مزید مضبوط کرے گی۔
مجموعی طور پر، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط کشیدگی کے خاتمے کا ایک نادر موقع فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی نے نہ صرف فوری تصادم کو روکنے میں مدد دی ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار کے طور پر بھی اجاگر کیا ہے۔
جیسے جیسے مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریاں جاری ہیں، آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ کوششیں پائیدار امن اور خطے میں معاشی استحکام کا باعث بن سکتی ہیں یا نہیں۔