برطانیہ: برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی گونج سنائی دینے لگی ہے، جہاں عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔
خلیجی صورتحال کے دوران پاکستان نے جس حکمت، توازن اور بردباری کا مظاہرہ کیا، اس نے اسے ایک ذمہ دار اور مؤثر عالمی سفارتی قوت کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے محمد افضل نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے میں پاکستان کلیدی اور قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں نے نہ صرف کشیدگی کم کی بلکہ ایک ممکنہ بڑے تصادم کو بھی روکا، اور دنیا بھر میں پاکستان کی قیادت کی مخلصانہ کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
محمد افضل نے اپنے خطاب میں شہباز شریف، اسحاق ڈار اور سید عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان رہنماؤں کی مشترکہ حکمت عملی اور سنجیدہ کوششوں نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری پاکستان کی ان کاوشوں پر شکر گزار ہے۔
اس موقع پر برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے بھی محمد افضل کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے میں استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی امن کے لیے نہایت اہم ہیں۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ اور کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے غیر معمولی بصیرت اور متوازن پالیسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں کردار ادا کیا بلکہ ایک ایسا سفارتی ماحول بھی پیدا کیا جس سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے ہم آہنگی کے ساتھ ایسی مؤثر سفارت کاری کی جس نے دنیا کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ کے خطرے سے بچانے میں مدد دی۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم، مثبت اور تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کی مضبوط پوزیشن میں آ چکا ہے، جسے عالمی برادری تسلیم کر رہی ہے۔