سیاست سے دور رہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی پوپ لیو پر سخت تنقید

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں جرائم اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں کمزور قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ پوپ لیو امریکہ کی پالیسیوں پر غیر ضروری تنقید کر رہے ہیں اور ایسے حساس معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں جہاں احتیاط ضروری ہے۔

انہوں نے خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایسے پوپ کو قبول نہیں کرتے جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت دینے کے حق میں ہو یا اس حوالے سے نرم مؤقف رکھتا ہو۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا کے معاملے پر بھی پوپ لیو کا مؤقف ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں، خاص طور پر جب امریکہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہو۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وینزویلا سے منشیات اور جرائم پیشہ عناصر امریکہ منتقل ہو رہے تھے، جن کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔انہوں نے کورونا وبا یعنی کووِڈ-19 کے دوران مذہبی اداروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت چرچز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور عبادات پر پابندیاں لگائی گئیں، جبکہ پوپ کی جانب سے اس پر مؤثر آواز نہیں اٹھائی گئی۔

اپنے بیان میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پوپ لیو کو اپنے عہدے پر آنے پر شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بقول وہ ایک غیر متوقع انتخاب تھے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ اقتدار میں نہ ہوتے تو شاید پوپ لیو اس منصب تک نہ پہنچ پاتے، اور یہ کہ ویٹی کن نے انہیں بطور امریکی ایک حکمت عملی کے تحت منتخب کیا۔

بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے پوپ لیو کو مشورہ دیا کہ وہ سیاست سے دور رہیں اور صرف مذہبی قیادت پر توجہ دیں، کیونکہ ان کے مطابق ان کا موجودہ طرزِ عمل نہ صرف ان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ کیتھولک چرچ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے