تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد ایرانی مؤقف سامنے آگیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ تہران نے مذاکرات سے قبل ہی اپنی نیت اور سنجیدگی کا اظہار کر دیا تھا، تاہم ماضی کے تجربات کے باعث امریکہ پر مکمل اعتماد ممکن نہیں رہا۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ دو جنگوں کے تجربات نے ایران کو محتاط بنا دیا ہے، اسی لیے اس بار بھی مذاکرات میں اعتماد کا فقدان نمایاں رہا۔ایرانی وفد کے ایک اہم رکن نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے مذاکرات کے دوران مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کیں، جن کا مقصد پیش رفت کو یقینی بنانا تھا، لیکن امریکی وفد ان اقدامات کے باوجود ایرانی نمائندوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکہ نے ایران کے اصولی مؤقف اور منطق کو کسی حد تک سمجھ لیا ہے، لیکن اب اصل فیصلہ واشنگٹن کو کرنا ہوگا کہ آیا وہ عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرسکتا ہے یا نہیں۔
ایران نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ سفارتکاری کو اپنی قومی حکمت عملی کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے، لیکن یہ حکمت عملی طاقت اور مزاحمت کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔
ایرانی قیادت کے مطابق وہ اپنی قوم کے حقوق کے حصول کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں راستوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے اور حالیہ "چالیس روزہ دفاع” کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائے گا۔
بیان میں پاکستان کے کردار کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جس نے ان مذاکرات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔ ایرانی حکام نے پاکستان کو ایک دوست اور برادر ملک قرار دیتے ہوئے اس کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
ایرانی قیادت نے اپنی قوم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران 90 ملین افراد پر مشتمل ایک متحد قوم ہے، جس نے مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
عوام کی جانب سے سڑکوں پر نکل کر قیادت اور مسلح افواج کی حمایت کو سراہا گیا اور کہا گیا کہ قوم کی دعائیں اور حمایت ہی ان کی اصل طاقت ہیں۔ ساتھ ہی مذاکرات میں شریک ایرانی وفد کی 21 گھنٹے طویل کوششوں کو بھی سراہا گیا اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔